فائر ایریا

Khulasa

Fire Area (Ilyas Ahmad Gadi)

Date:- 08-08-2019

By:- Mohammad Hilal Alam 

خلاصہ: ناول فائرایریا
ناول شروع ہونے سے پہلے ابتدائیہ نام سے ایک عنوان ہے جس میں کوئلے کی کان کے بارے میں تفصیل سے جانکاری دی گئی ہے۔ کس طرح سے لوگ کوئلہ نکالتے ہیں اور کس طرح سے یہ کولیری چلتی ہیں اورکون کون لوگ اس میں شامل ہوتے ہیں۔ اورکتنی یونین اس میں چلاکرتی ہیں اوروہ مزدوروں پرکیا کیا ظلم کرتے ہیں۔ یہی سب اس ناول میں پیش کیا گیا ہے۔
ناول فائرایریا کا خلاصہ کچھ اس طرح سے ہے:۔
ست پور گاؤں کا رہنے والا سہدیو پرساد رمانی ننکو کے ساتھ سرسا کولیری میں کام کرنے کے لیے جاتا ہے۔ ننکوبھی سرساکولیری میں کام کرتاہے۔ لیکن ننکو کولیری کے مالکوں کے لیے گاؤں سے مزدوروں کو کام کروانے کے لیے بھی لے کرآتاہے جس میں اس کو فی آدمی دو سوروپیہ ملتا ہے۔ بس یہ ان کولیری میں کام پرلگواتاہے اورپوراخیال رکھنے کا وعدہ کرکے اس بھیانک جنگل میں پھنسا دیتاہے۔ یہ ایک ایسا بھیانک جنگل ہے جو کہ اس میں کام کرنے والے مزدوروں کی زندگی نرک بنادیتا ہے۔سہدیو، رحمت میاں اور جگیتبرننکو کے ساتھ شہرمیں کام کرنے کے لیے جاتے ہیں۔ رحمت رسول پور گاؤں کا رہنے والا ہے اورباقی یہ دونوں ست گاؤں کے۔سہدیو کوچھوڑنے کے لیے اس کے بھائی اوربھابھی سڑک تک ساتھ آتے ہیں۔ ساتھ میں اس کا بھتیجہ لڈو بھی ہوتاہے۔ پھروہ اپنے گھر سے شہر کے لیے نکل رہا ہوتا ہے تو راستے میں جلیا کے گھر کے سامنے رک جاتاہے۔ جلیا سہدیو سے محبت کرتی ہے۔ شہرجانے سے ایک دن پہلے جلیا اس کوملی تھی اور کہا تھا کہ ہرمہینہ گھرآنا وغیرہ۔ ننکوکولیری پہنچ کر ان تینوں کو کام دلادیتا ہے اوریہ روزانہ کولیری میں کان کے نیچے سرنگ میں جاکر کوئلہ توڑتے ہیں اور ان کو ٹرم میں لوڈ کرتے ہیں۔ اس سرنگ میں بہت سے مزدور کام کرتے ہیں۔ روزشام کو لیری سے اپنے کوارٹر میں آکر سب لوگ باتیں کرتے، ہنستی مذاق کرتے۔ کچھ لوگ شراب پینے چلے جاتے تھے۔ وہیں یہ لوگ گھاس پربیٹھ کر اپنے سکھ دکھ کی باتیں کرتے رہتے۔ اس دن بھی یہ سب وہیں بیٹھے باتیں کررہے ہوتے ہیں کہ وہاں ان کے پاس کالا چندنام کا آدمی آتا ہے اور ننکو سے مذاق میں کہتا ہے کہ کتنا کمیشن ملا ان کو لانے پر اور بھی بہت سی جلی کٹی باتیں کہتا ہے۔ ننکو کا چہراترجاتا ہے لیکن سب یہ کہہ کر چھوڑدیتے ہیں کہ اس نے زیادہ پی لی ہے تو بک رہا ہے۔ پھر باتوں باتوں میں کالاچند نئی کہانی سناتا ہے جب وہ دھرم پور کولیری میں کام کرتا تھاتوپرپھول جوشی کا خاص تھا جو اس کولیری کا مالک تھا۔ وہیں پر کالا چند نے بہت سے لوگوں کومارا تھا۔ ان کولیریوں میں مالک لوگ اپنے ساتھ کچھ پہلوان رکھتے ہیں اور کچھ یونین بناکر ان کو شہ دیتے ہیں۔ ان سب کا ایک ہی کام ہوتا ہے کہ جومزدورآوازاٹھائے اس کی آواز کودبایا جائے۔ پیارسے نہیں مانتاتو اس کے ساتھ مارپیٹ کی جاتی ہے۔ یہی کام کالا چند کرتاتھا۔کالا چند کومالک لوگ اس طرح کے کام کے لیے پیسے دیتے تھے اور دارو کے لیے الگ سے پیسے دیتے تھے۔ اس کو دارو پلا پلا کر بیکار کردیاتھا۔ان دنوں کالا چندکمار بابو پرحملہ کرتا ہے اوراس کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ مارتا ہے۔ توکماربابو مرجاتاہے اور بات بہت بگڑجاتی ہے۔ پرپھول جوشی بہت ڈانٹتا ہے کہ میں نے اس کو جان سے مارنے کے لیے نہیں کہا تھا۔ اب بھگتو۔ کمار بابو کے مرجانے پر کالا چند گھربھاگ جاتا ہے اس بیچ کولیری کا  بازارایک دن بندرہتا ہے اور ہڑتال رہتی ہے۔ کالا چند گرفتار کرلیا جاتاہے۔ لیکن کشوری بابو وکیل نے مقدمہ لڑکر اس کوبچالیا۔ دھرم پورکولیری کا مالک پرپھول جوشی ان سب باتوں کی وجہ سے کولیری میں گھسنے نہیں دیتا اور کالا چند کی بہن رانی کو دوسال تک داشتہ بنالیتا ہے۔ا س کے بعد رانی حاضری بابو سے شادی کرلیتی ہے۔ اس وجہ سے کالا چند حاضری بابو کے پاس اپنی حاضری نہیں لگواتا۔ حاضری بابو خود ہی اس کی حاضری لگادیتا ہے۔
ادھرجوالہ بابا پھول منیا کے ساتھ پکڑے جاتے ہیں۔سری واسوکابہت دنوں سے ایسے موقع کی تلاش میں تھا اس نے یہ بات سبھی کو بتادی پھرتو جوالہ بابا کی ہرطرف جگ ہنسائی ہوتی ہے۔ پھرایک دن سہدیو اپنا پہلا ہفتہ اٹھاتاہے تو وہ مصراجی سے ملتا ہے وہ جوالہ بابا کے بارے میں اس کو بتادیتے ہیں۔ ایک دن سہدیوجیسے ہی اپنی تنخواہ لے کرآتا ہے باہر جوالہ بابااس کو اپنے دو تین ساتھیوں ساتھ گھیرلیتا ہے۔ اوراس سے یونین کا ٹکٹ کٹوانے کو کہتا ہے۔ پہلے توسہدیو منع کرتا ہے پھرجوالہ کہتا ہے کہ اگرتمہاری جان چلی جائے گی تو ہماری یونین تمہارے لیے لڑے گی۔ مصراجی جلدی سے رسید بک لے کر سہدیو کی رسیدکاٹ دیتے ہیں اوراس کوپیسے دینے پڑتے ہیں۔ ایک دن سہدیو مائنگ سردار سے کہتا ہے کہ رحمت میاں کی ڈیوٹی میرے ساتھ لگادو۔ یہ کمزور ہے میں اس کی مدد کردیا کروں گا۔ رحمت کوکان میں ہمیشہ ڈرلگارہتا کہ کان میں نہ مرجائے۔
ابھی تین مہینے ہوئے تھے کہ ایک دن سہدیو اپنی تنخواہ لیے کھڑکی پرکھڑاتھا وہیں پر کالا چند تھا۔ کالا چند نے اپنی تنخواہ لی اورجلدی سے سہدیو کے ہاتھ میں دے کر بولا بعد میں لے لوں گا۔ جب سہدیو باہرآیا تو دیکھتا ہے کہ کپل سنگھ کے آدمی کالاچند کوگھیرے کھڑے ہیں۔ پیسوں کے اوپر جھگڑاہورہا ہے وہیں کپل سنگھ کے آدمی کالاچند کے کپڑے اتارکرتلاشی لے رہے تھے توسہدیو بگڑجاتاہے اور پاس پڑی ہوی روڈ اٹھالیتا ہے۔ کپل سنگھ کے آدمی ڈر جاتے ہیں تبھی ننکو آکر بیچ بچاؤ کردیتا ہے اورسہدیو سے کہتا ہے کہ کپل سنگھ سے معافی مانگ لواسی میں بھلائی ہے ورنہ جان سے جاؤگے۔ اس جھگڑے کے بعد کالا چند اورسہدیو میں دوستی ہوجاتی ہے۔
کالاچند کی بہن رانی سہدیو سے ملتی ہے اورتین سو روپیے دے کرکہتی ہے کہ یہ کپل سنگھ کودے دینا۔ کالا چند نے کپل سنگھ سے روپیے لیے تھے اس لیے اس کے ساتھی لڑرہے تھے۔ سہدیو اگلے دن روپے لے کر کپل سنگھ کے پاس جاتا ہے ساتھ میں ننکوبھی ہے۔ ننکو اس کومعافی منگوانے کے لیے لے کر گیاتھا۔ سہدیو کپل سنگھ کوروپے دے دیتا ہے اور کالا چند کا کاغذ لے لیتا ہے۔ کپل سنگھ سہدیو کوسمجھاتا ہے کہ ہم سے پنگا مت لو ورنہ بہت براہوگا۔ سہدیو وہاں سے واپس آجاتا ہے تواس کو جوالا بابو اپنے آفس بلاتا ہے اور کہتا ہے کہ ان لوگوں سے ڈرنا نہیں۔ وہ اسی بیچ مجمد ار سے بھی ملتا ہے۔ مجمدار کولیری میں جونیئر کلرک ہے اور وہ کمیونسٹ ہے۔ کولیری کے مزدوروں کواپنے یونیئن میں شامل کرتاہے۔ سہدیو اس کے پاس روز جانے لگااور وہیں پرکتابیں بھی پڑھتا ہے۔کولیری میں سہدیو سب سے زیادہ پڑھا لکھاآدمی ہے۔ اورپھربھی مزدوری کرتا ہے۔ کان میں گیارہ بارہ سوفٹ نیچے کام کرتاہے۔ لوگ اس سے کہتے تھے کہ کہاں مزدوری کرتے ہوتم کو تو اوپربھی کام مل سکتا ہے۔ سہدیو کہتا کہ کچھ دن مزدوری کروں گا پھرپیسہ جمع کرکے گھرواپس لوٹ جاؤں گا اورزمین خرید لوں گا۔ اور یہی خواب ہرمزدور دیکھتا ہے لیکن یہ کبھی پورا نہیں ہوتا۔رحمت آٹھ دن کی چھٹی لے کر اپنے گھر جاتا ہے اورپھرپندرہ دن بعد واپس کولیری پہنچتاہے۔ حاضری بابو اس کی ساری حاضری پوری کردیتا تھا۔ کیو ں کہ اسی کو پیسہ ملتا ہے اسی کام کا۔ سہدیو رحمت میاں سے گاؤں کا حال معلوم کرتا ہے تورحمت میاں کہتا ہے کہ کھرسوان ہائی اسکول کا ہیڈماسٹردینا ناتھ مرگیا اور جلیا کی بھی شادی ہوگئی۔ سہدیو کو بہت افسوس ہوتاہے۔ سہدیو جب مجمدار سے ملتا ہے تو وہ اس سے کہتا ہے کہ کول فیلڈ میں رہنے کی پہلی شرط یہ ہوئی ہے کہ دیکھو سب،سنو سب، بولو کچھ نہیں۔ سہدیو پورے کول فیلڈ میں مشہور ہوگیا تھا لوگ ا س سے صلاح لینے بھی آتے تھے۔ کسی کا اگرجھگڑا ہوجاتا تو وہ یونین یا کپل سنگھ کے پاس نہیں جاتا بلکہ سہدیو سے اپنا مسئلہ حل کرواتاہے۔ یہی باتیں سہدیو سے دشمنی کا سبب بنتی ہیں۔ کپل سنگھ اس کی مقبولیت سے چڑھ جاتا ہے۔ کپل سنگھ معمولی چپراسی تھا اور کولیری میں سودی کاروبارکرتا تھا دو جوتے کے اڈے تھے،تین شراب کی دکانیں۔اپنا کاروبار چلانے کے کے لیے اس نے درجنوں آدمی رکھے تھے۔ اور کچھ پہلوان بھی رکھے تھے اس کے لیے مزدوروں سے جھگڑاکرنے کے لیے۔
پھر ایک دن سہدیو اپنے گاؤں جاتاہے۔دوسال بعد وہ اپنے گاؤں پہنچتا ہے۔لوگوں سے ملتا ہے اپنے دوست سندرلال سے ملتا ہے اور اس کے ساتھ گھومنے جاتا ہے۔ ایک دن سائیکل سے رحمت میاں کے گاؤں رسول پورجاتاہے۔ رحمت میاں کی بیوی خاتون اوراس کے بیٹے عرفان اور بوڑھے باپ سے بھی ملتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ میرے تین بچے اللہ کو پیارے ہوگئے۔اب بس یہی رحمت بچا ہے۔ اس کا دھیان رکھنا۔پھرسہدیو چھٹی کے دو دن پہلے ہی کولیری پہنچ جاتاہے۔ تووہاں دیکھتا ہے کہ لوگ خاموش ہیں۔ سب اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ پھروہ رحمت میاں کے بارے میں معلوم کرتا ہے توکوئی اس کو جواب نہیں دیتا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رحمت میاں گھر بھاگ گیا ہے۔ سہدیو رحمت میاں کو ہرطرف تلاش کرتاہے پوراشہرچھان مارتا ہے۔ پھرایک دن کالا چندملتا ہے اوروہ اس کو بتاتا ہے کہ رحمت میاں مرگیا۔ کالا چند کو یہ بات مدنا سے پتہ چلتی ہے۔ اورسہدیو مدنا کے پاس جاکر اس کا کالرپکڑکرپوچھتا ہے کہ رحمت میاں کیسے مرا۔ اگلے دن میرے ساتھ کولیری چلنا اورگواہی دینا۔ لیکن اگلے دن مدنا غائب ہوجاتاہے۔ سہدیو کوبہت غصہ آتاہے اوروہ کولیری میں کھلا چیلنج کرتا ہے کہ رحمت میاں کی لاش کواکھڑواکرہی دم لوں گا۔ سہدیو سب سے معلوم کرتاہے۔ حاضری بابوکا رجسٹردیکھتا ہے تو اس میں رحمت میاں کا انگوٹھا لگاہوتاہے اورمائننگ سردارسے بھی ملتا ہے وہ بھی کچھ نہیں بتاتا۔ پھر ایک دن مجمدارمائنس ڈپارٹمنٹ کوایک چٹھی لکھ دیتاہے۔ بس اسی بات پر کولیری کے بابو لوگ اور مینجمنٹ سہدیو کودھمکاتے ہیں۔ مائنس ڈپارٹمنٹ سے ایک انسپکٹر جانچ کرنے آتا ہے،انکوائری ہوتی ہے۔ پھرکولیری کا مینجمنٹ گواہی کے لیے لوگو ں کو تیار کرلیتاہے۔ بدھ کے دن گواہی دینے کے لیے طے ہوتاہے اور یہ سب کام کپل سنگھ کی نگرانی میں ہوتاہے۔سب لوگ ڈیوٹی پرجاتے ہیں بس سہدیو نہیں جاتا وہ سوچتا ہے کہ میں زبردستی گواہی دوں گا۔
کپل سنگھ اس دن کے لیے پورا انتظام کرتا ہے باہر ہے پہلوان بلاتاہے اور کولیری میں گشت لگواتاہے۔ لوگوں کوڈراتاہے دھمکاتا ہے۔گواہی سے ایک دن پہلے کپل سنگھ رات کوشراب پی کر لوگوں کودھمکاتاہے اور باہرنکلنے کے لیے کہتا ہے کوئی نہیں نکلتا۔ سب لوگ سہدیو سے بھی منع کردیتے ہیں۔ اچانک سہدیو اٹھتا ہے اور دروازہ کھول کر باہرنکل جاتاہے، باہر کالا چندکوآواز دیتاہے،تبھی اس کے اوپرحملہ ہوتا ہے اور چاروں طرف سے سہدیو کوپیٹا جاتاہے۔
اگلے دن گواہی شروع ہوتی ہے تو مجمدارکھڑاہوجاتاہے کہ یہ ساری گواہی جھوٹی ہے۔ رحمت میاں کا ایکسیڈینٹ ہواتھاکان کے اندر۔ وہ چلاتارہتاہے کہ رحمت میاں کی لاش کان کے اندرہے اس کوتلاش کرو۔کپل سنگھ کے آدمی اس کو گھسیٹتے ہوئے باہر لے جاتے ہیں۔یہیں پرپہلاباب ختم ہوجاتاہے۔
جب سہدیو اور مجمدار کوکولیری سے نکالاجاتاہے تووہ دوسری کولیری میں کام تلاش کرتے ہیں۔ اورموہنا کولیری میں مجمدار اورسہدیو کوکام مل جاتاہے۔ موہنا کولیری ٹرنرموریسن کمپنی کی ہے۔ اس کولیری میں اصغرخاں جوپٹھان دنگل کا مکھیا تھا وہ ایک انگریزکوگھوڑے سے گھسیٹ کراتار دیتاہے کیوں کہ اس انگریز(اسمال صاحب) نے اس کے بھتیجے کوگالی دی تھی۔ اصغرخاں انعام خاں کا آدمی ہے جوموہنا کولیری کا بے تاج بادشاہ تھا۔
اصغر خاں نے تمام خون کیے تھے اوراس سے بھی لوگ ڈرتے تھے۔ اصغرخاں انگریز کودھمکی دیتا ہے کہ کولیری مت آنا ورنہ ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا۔ انگریز وہائٹ صاحب سے شکایت کرتاہے۔ اندر وہائٹ صاحب،لوکس صاحب اور اسمال صاحب گفتگو کرتے ہیں اور اس وقت اسمال صاحب کولیری سے استعفیٰ دے دیتا ہے۔کولیری میں سب لوگ دکھی ہوجاتے ہیں بس ایک گھوشال بابو خوش ہوتے ہیں کہ چلو ایک انگریزکی توچھٹی ہوئی۔ یہ کیش ڈپارٹمنٹ میں کلرک ہیں ان کو انگریزوں سے بہت چڑہے۔ اپنے ساتھ کام کرنے والے بابوؤں سے آکر لڑتے رہتے ہیں۔ہیڈکلرک پھاٹک ان کوخاموش کرتارہتا ہے۔
اصغر خاں سے جھگڑے کے بعد اور اسمال صاحب کے استعفیٰ کے بعد لوکس اوروہائٹ صاحب انعام خاں اور اس کی یونین کوختم کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ یہ لوگ دوسری یونین آئی این ٹی۔ یوکوسپورٹ کرتے ہیں اوران کوکولیری میں پیرجمانے کے لیے موقع دے دیتے ہیں۔اسی رات میں اس یونین کے پانچ لوگ وہایٹ صاحب سے ملاقات کرتے ہیں۔ان میں لالہ دیپ نرائن قیادت کررہے ہوتے ہیں۔ اوراس طرح سے یہ یونین قائم ہوجاتی ہے۔ یہ لوگ بڑے بڑے جلوس نکالتے ہیں اور جلسے کرتے ہیں۔ اوراس کام میں ان کی مدد کولیری مینجمنٹ کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ بھی کرتی ہے کیوں کہ یہ یونین گانگریس والوں کی تھی اور انھیں کی سرکارتھی۔ جہاں پولس کی ضرورت پڑتی وہاں ان کو مدد ملتی ہے۔ سہدیو بھی کانگریس کی یونین میں شامل تھا۔سہدیو کانگریس میں اس وجہ سے شامل ہواتھا کہ وہ تبدیلی چاہتا تھا۔ سہدیو کو ہمیشہ رحمت میاں کی موت کا غم تھا۔ ایک دن یوین لیڈر پی این ورما دس بارہ آدمی کے ساتھ لوکس بابو اور سی ایم ای آئی ون صاحب سے ملتا ہے۔ وہیں پران میں طے ہوتا ہے کہ ورما صاحب آپ ایک جلسہ کرواؤ۔ مزدوروں کی تنخواہ بڑھوانے کے لیے۔ ہمارے پاس پہلے سے ہی تنخواہ بڑھانے کا آرڈر آیاہواہے۔ اس سے تمہاری یونین کی دھاک جمے گی اور مزدور تمہارے ساتھ ہوجائیں گے۔ یونین کا لیڈر ورما کمپنی کو یقین دلاتا ہے کہ ایسے ہی ہوگا اورمینجمنٹ کے مفادات کا خیال رکھاجائے گا۔ یہ یونین ایک جلسہ کراتی ہے اور ڈرامہ کرتی ہے پھرایک دن سب مزدوروں کی تنخواہ بڑھنے کا آڈرآ جاتاہے۔مزدورلوگ ورما کی بہت تعریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بہت بڑا لیڈرہے۔ ایک ہی جلوس میں کام کروادیا۔ ادھرانعام خاں کی یونین میں سب لوگ حیران ہوجاتے ہیں کہ یہ کام اتنی جلدی کیسے ہوگیا۔ انعام خاں نے بہت کوشش کی کہ مزدور بڑھی ہوئی تنخواہ نہ لیں لیکن مزدوروں نے خوشی خوشی تنخواہ اٹھالی۔پھر ایک دن دونوں یونین کے لوگوں میں جھگڑاہوتاہے۔ پتھراؤ ہوتاہے گھوشال بابو کے سامنے والے دودانت ٹوٹ جاتے ہیں۔ مینجمنٹ کوان سب باتوں سے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔
ایک دن صبح کوجب سب لوگ سوکراٹھتے ہیں توپتا چلتا ہے کہ لالہ دیپ نارائن کا قتل ہوگیا۔ اورسارا الزام انعام خاں پرآتاہے۔ سب کو گرفتار کرواکر جیل بھیج دیاجاتاہے۔ ایس این ورما اصغرخاں اورقاسم خاں کی ضمانت کروا دیتاہے۔
ایک دن سہدیو مجمداد کے ساتھ سونا پورجاتاہے۔وہاں مجمدار اپنی منہ بولی بہن (بیوہ پرتی بالا)سے ملتاہے اور اس کے خرچ کے لیے پیسے دیتاہے۔ بعد میں جب مجمدار کی طبیعت خراب ہوتی ہے توسہدیو پیسے دینے جاتا ہے۔
ایک دن سہدیو مجمدار کی منہ بولی بہن برتی بالا سے شادی کرلیتاہے۔ کچھ دن بعد سہدیو کا بھائی اس کو بلانے کے لیے آتاہے اورایک بنگالن بیوہ سے شادی کرنے پرغصہ ہوجاتاہے۔ پھرپتا نہیں کیا سوچ کراس کواپنے ساتھ گاؤں لے آتاہے۔ سہدیو برتی بالا کے ساتھ کچھ دن گاؤں میں رہتاہے اور پھرایک دن بھائی کے کہنے پر ساری زمین ان کے حوالے کرکے شہرلوٹ جاتاہے۔ ایک دن سہدیو جونا تھن کی دکان پر بیٹھ کرچائے پی رہا ہوتا ہے کہ اس کوایک خاتون دیکھ لیتی ہے اور کہتی ہے کہ دیورجی مجھے پہچان نہیں رہے۔ سہدیو گھبراجاتاہے کیوں کہ رحمت میاں کی موت والی بات اس نے اس گاؤں میں جاکرنہیں بتائی۔ سہدیو ڈرتاتھا اس وجہ سے نہیں بتایاکیوں کہ اس کورحمت میاں کا بہت خیال تھا۔وہ اکثر اس کو یاد کرکے رودیتاتھا۔ خاتونیہ بتاتی ہے کہ وہ چھ برس سے یہاں ہے اورعرفان بڑاہوگیا ہے اسکول پڑھنے جاتاہے۔ اس کے دادا مرگئے۔ سہدیو خاتونیہ کو اپنے گھرآنے کے لیے کہنا ہے۔ اتوار کے دن خاتونیہ سہدیو کے گھرآتی اور باتوں میں بتاتی ہے کہ ہم کو معلوم ہوگیاتھا کہ رحمت میاں کی موت ہوگئی تھی۔ سرساکو لیری جاکرپتہ چلا۔وہیں جگیشبر نے سب بات بتادی مجھے۔ سہدیو کو اب اطمینان ہوگیا کہ چلواس کو سب بات معلوم ہوگئی۔ پھر سہدیو خاتونیہ سے جگیشبر کے بارے میں سوال کرتاہے تووہ بتاتی ہے کہ جگیشبر بہت بڑا آدمی ہوگیا ہے اس کی بڑی کوٹھی ہے۔ وہ سہدیو سے کہتی ہے کہ کپل سنگھ کے آواز دینے پر تم کیوں رات کوباہر نکلے۔ سہدیو کوئی جواب نہیں دیتا رونے لگتا ہے توخاتونیہ اٹھ کر اس کے آنسوپوچھتی ہے۔
ادھر ورما کی یونین کی شاخ دھیرے دھیرے ختم ہونے لگتی ہے توورما ایک میٹنگ بلاتاہے۔ شروع میں سہدیویونین کے کام سے خوش تھا لیکن بعد میں جب یہ یونین مزدوروں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی تووہ اس سے بیزاہوجاتاہے۔ سہدیو کی مقبولیت اس کولیری میں بھی بہت زیادہ ہے لوگ اس کی ہربات مانتے ہیں۔
ایک دن دیپ نرائن کی بیوہ لائن اس کوگھربلاتی ہے اورساری باتیں بتاتی ہے کہ لالہ دیپ نرائن کا قتل ورمانے کروایاتھا۔ورما دوسری یونین کوختم کرنے کے لیے ہی یونین سے آدمی کاخون کرواتاہے۔ جب یہ بات سہدیو کوپتا چلتی ہے تووہ بہت غصہ ہوجاتاہے۔ لالائن اپنے بیٹے بھیم کونوکری دلانے کوبھی کہتی ہے۔ ایک دن ورما صاحب سہدیو کوبلاتے ہیں سہدیو نہیں جاتا منع کردیتاہے۔ جوآدمی بلانے آتاہے وہ سہدیو کودھمکی دیتاہے۔ سہدیو کہتا ہے جاکرکہہ دینا میں نہیں ڈرتا کسی سے تمام کو لیری میں یہ بات آگ کی طرح پھیل جاتی ہے۔ ورما سہدیو کواس لیے بلارہا تھا کہ اس بار اس کی پارٹی کے پچیس فیصدی ٹکٹ نہیں کٹیں گے اس وجہ سے ورما پریشان تھا اور مزدوروں میں صرف سہدیو کی پکڑاچھی تھی یہ لوگ اس پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ مزدوروں کی پرچی کٹواؤ۔ اس وجہ سے سہدیو نے منع کردیا اورایک خاص وجہ لالائن کے شوہر کی موت تھی۔ جس کا ذمہ دار ورماتھا۔ پی این ورما وہایٹ صاحب سے کہہ کر سہدیوپرتمام غلط چارج شیٹ لگادیتا ہے اور نوکری سے نکال دیتاہے۔ پھرشراب پی کر سہدیو کہتاہے کہ لالہ دیپ نارائن کا خون ورما کے آدمیوں نے کیا ہے، بہت بھیڑ جمع ہوجاتی ہے۔ لوگ چاروں طرف سے سہدیو کو گھیرلیتے ہیں ہرکوئی سچ سننے کوبے تاب ہے۔ دوتین پہلوان اٹھتے ہیں اورسہدیو کوگالی دیتے ہیں کہ پی کربکتاہے۔ سہدیو پھرگالی دیتا ہے توچھ پہلوان اس کوگھیر لیتے ہیں۔ بازار میں بھگدڑمچ جاتی ہے۔ دکانیں بندہوجاتی ہیں۔ سہدیو کوخوب ماراپیٹا جاتاہے اور اس کو گھسیٹ کرلے جانے لگتے ہیں تبھی بھگوان داس دوڑتاہے۔پہلوان اس کے منہ پرگھونسا مارتے ہیں وہ گرجاتاہے۔ پہلوان سہدیو کوگھسیٹ کرگوف ایریا کی ڈھلان میں اترجاتے ہیں۔ سہدیو بے ہوش ہوجاتاہے۔
پھرجب سہدیو کو ہوش آتاہے تو اپنے آپ کو خاتون کے گھرمیں پاتاہے۔ سہدیو کوخاتون نے ہی خیراتی اسپتال میں بھرتی کرایاتھا۔ سہدیو کا سارا سامان کواٹرسے ورما نے باہرکردیاتھا۔ خاتون اس سامان کوگاڑی میں بھرواکراپنے گھرلے آئی تھی۔ کافی دن وہ خاتون کے گھررہتا ہے اورکہتا ہے کہ تم کیوں میرے لیے پریشان ہو۔ پھرعرفان اور مجمدارسہدیو کوپتھرکھیڑاکولیری میں کام پر لگوادیتاہے۔ وہاں صرف سہدیو کودستخط کرنے ہوتے ہیں۔ پتھرکھیڑاکولیری کامالک ایک بنیا ہوتا ہے وہ مائننگ قاتون سے محفوظ رہنے کے لیے اس کو صرف حاضری لگوانے کے لیے کام پررکھتاہے۔ اس کے بدلے میں ہرمہینے ڈھائی سوروپے دیتاہے۔پھر ایک دن پرتی بالا سہدیو سے کہتی ہے کہ کیا ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھے رہوگے۔لڑکے کو اسکول میں پڑھانا نہیں ہے کیا۔ سہدیو کے دولڑکے اورایک لڑکی تھی۔ سہدیو اپنے لڑکے راجندر کا داخلہ کروادیتاہے لیکن راجندر کے اسکول کی فیس زیادہ ہوتی ہے تووہ اس کی فیس معاف کروانے اسکول جاتاہے وہاں ہیڈماسر سہدیو سے کہتا ہے کہ فیس معاف کرنے کا فیصلہ کمیٹی کرتی ہے۔ تم کمیٹی کے اہم ممبرجے پی سنگھ سے مل لو۔ سہدیو اس سے ملنے اس کے گھرجاتا ہے تو چونک جاتاہے کیوں یہ جے پی سنگھ دراصل اس کے گاؤں کا جگیشر تھا جو کئی سال پہلے اس کے ساتھ کولیری میں کام کرنے آیا تھا۔ یہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا اور سہدیوآج بھی مزدورہے۔جگیشراس کواپنی بیوی سے ملواتاہے جس کانام رنجناہے۔ جگیشبر کی پہلی بیوی مرگئی تھی اس نے دوسری شادی کی تھی۔ پہلی بیوی سے ایک لڑکاتھا جودہرہ دون میں پڑھ رہا تھا۔ دوسری بیوی سے دوبچے اور تھے۔ سہدیو فیس معافی والی درخواست جگیشبرکو نہیں دے پاتا اور گھرچلاآتاہے۔
پھر ایک دن تمام کولیریوں کوقومیالے لیا جاتاہے۔ اخبار کی ہیڈلائن ہوتی ہے کہ ”اندراگاندھی کا ایک اور اہم اقدام“ہندوستان بھرکی تمام کولیریوں کو قومیاں لیا گیا۔۔
یہیں پردوسراب باب ختم ہوجاتاہے۔
اب جب کہ تمام کولیری نیشنالائز ہوگئی تو اس میں کام کرنے والوں کی تنخواہ میں بے حدزیادہ اضافہ ہوگیا اور سبھی لوگوں کی نوکری پر ماننٹ ہوگئی۔ اسکی مارا ماری میں سبھی نے اپنی نوکری کے لیے جدوجہد کی۔ کسی نے پچاس ہزار دیے کسی نے ساٹھ ہزار۔ جن کا پی ایف میں نام تھا ان کو توپرمانینٹ کردیاگیا، جن کا نام نہیں تھا ان کی انکوائری بیٹھا دی گئی۔ اب لوگ آفس کے چکر لگاتے کہ ہم یہاں نوکری کرتے تھے لیکن پی ایف میں نام نہ ہونے کی وجہ سے ان کو منع کردیا گیاتھا۔ جن لوگوں کا پی ایف اکاؤنٹ میں نام نہیں تھا ان میں سے ایک سہدیو بھی تھا۔ بھارت کول کنگ کا افسرسہدیو سے کہتا ہے کہ تمہارانام توبے شک کھاتے میں درج ہے مگرپی ایف میں نہیں ہے۔ سہدیو تمام یقین دلاتاہے لیکن افسرنہیں مانتا۔ پھرافسرکہتاہے کہ تمہارا اسکریننگ ہوگا تب جاکر نوکری ملے گا۔ سہدیو تمام آفسوں میں چکرکاٹتاہے۔اس جدوجہد میں اس کو چھ مہینے بیت جاتے ہیں۔ سب جگہ لوگ یہی کہتے ہیں کہ کچھ پیسہ خرچ کرو۔ اسی سلسلے میں وہ جگیشبر سے بھی ملتا ہے وہ بھی اس سے تین ہزار روپے کی بات کہتا ہے۔ اسی طرح سے سہدیو کا کاغذ ایک ٹیبل سے دوسری ٹیبل تک گھومتارہتاہے۔ مگرکوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ اس بیچ میں ایک آدمی کلیان دتہ سہدیو کوبھاردواج کے پاس لے جاتا ہے۔بھاردواج دلت مزدورسنگھ یونین کا لیڈرتھا۔ یہ یونین صرف طاقت پربھروسہ رکھتی ہے۔ جو ان کی بات نہیں مانتا اس کو یہ گولی مار دیتے ہیں۔ بھاردواج نے سہدیو کی ساری بات سنی اوراپنے ایک ساتھی دھرپ سنگھ کے ساتھ اس کولیری کے اس افسر کے پاس بھیج دیا جہاں پرسہدیو کا کیس رکاہواتھا۔ دھرپ سنگھ نے تیواری ناتھ گھوش کوجاکردھمکایا اورکہا کہ ایک ہفتہ میں کام ہوجانا چاہیے۔ ورنہ گولی ماردوں گا۔ بھاردواج کانام سن کر اس افسرکی آوازبندہوگئی۔ سہدیو کوکام پررکھ لیا گیا اورسہدیو سوچنے لگا کہ جو کام مہینوں سے نہیں ہوا وہ چٹکی میں ہوگیا۔ مگرایک پریشانی کا سامنا کرنا پڑاکیوں کہ سہدیو کولوگ بھاردواج کاآدمی سمجھ کراس سے ڈرتے تھے۔ اس وجہ سے سہدیو کولیری میں اکیلا پڑجاتاہے لیکن وہ صرف اپنے کام سے کام رکھتاہے۔ کبھی کبھی بھاردواج کے پاس چلاجاتاتھا۔ ایک دن کولیری میں ایک حادثہ ہوا دو لوگوں کی جان چلی گئی۔ جس کی انکوائری ہوئی اور سارا الزام لکھن یادو کے سرمٹھ دیاگیا۔ سہدیو نے اس کی مدد کی اوراپنے دماغ سے اس کوبچالیا ساراقصور مرنے والے پرڈال دیاگیا۔ اس واقعہ سے مزدوروں میں ہنگامہ مچ گیا سب سہدیو کی تعریف کرنے لگے۔ مزدور اس کے قریب آنے لگے۔
پھول منیا سہدیو سے محبت کرنے لگتی ہے۔ لیکن سہدیو نہیں کرتا اس کی محبت کے چرچے پوری کولیری میں مشہور ہوجاتے ہیں۔ کولیری میں دلت مزدور سنگھ کا آفس کھل جاتاہے اورسہدیو کویونین آفس کا ساراکام دے دیا جاتاہے۔اس کے ساتھ چارآدمی اور کام کرتے ہیں۔ پھرسہدیو مزدوری چھوڑکرآفس میں ہی رہتا اورمزدروں کی فریاد سنتا اور ان کو حل کرتا۔ اسی بیچ میں سہدیو سے مجمدار اور عرفان کی ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں۔ مجمدار سہدیو کے دلت مزدور سنگھ میں کام کرنے سے خوش نہیں تھا۔ انھیں دنوں ایریاٹومیں کسی کا قتل ہوجاتاہے۔ 
سنالی گھوش کے یہاں پرایک دن انسپکٹر پوچھ تاچھ کے لیے آتاہے۔ دراصل انسپکٹر کودھرپ سنگھ کے خلاف ثبوت اکٹھاکرنے تھے۔ اسی وجہ سے وہ بھاردواج کے آدمیوں سے مل رہا تھا۔ مسٹرسنالی گھوش کے پاس وہ اس لیے جاتا ہے کہ دھرپ سنگھ کے کاغذوں میں اس کانام لکھا ملتاہے اورایک سوروپیہ بھی مسزسنالی گھوش کوسب بات یادآجاتی ہے کہ یہ تووہی سنت لال ہے جوگھرکے باہربخارمیں سوتاملاتھا اور اس کوگھرمیں رکھ کر اس کا علاج کیاتھا۔ اس کے پاس ایک پستول بھی ملی تھی۔ لیکن ایک دن یہ اچانک غائب ہوجاتاہے اورسنالی کے پرس سے ایک سوروپے بھی غائب ہوتے ہیں۔ اسے سمجھتے دیرنہیں لگتی کہ یہ وہی ہے لیکن انسپکٹر کو کچھ نہیں بتانی۔سنت لال نے سنالی کواپنی ساری بات بتائی تھی کہ وہ دھرم پور کولیری میں رہتا تھا اپنی ماں بہن کے ساتھ۔ باپ مرچکا تھا۔ ماں کولیری میں نوکرتھی۔ دوپہلوان روزاس کے کوارٹر میں آتے اور اس کی ماں اوراسے برآمدے میں پھینک دیتے اور اس کی بہن کے ساتھ غلط کام کرتے،وہ روزیہی کرتے تھے۔ ایک دن وہ زیادہ نشے میں ہوتے ہیں کہ سنت لال اس کی جیب سے پستول نکال کر بھاگ جاتاہے اوروہ سنالی کے گھرکے باہربخارمیں پڑاہوتاہے۔ یہی اس کی کہانی تھی۔ انسپکٹر سہدیو سے بھی بھرت سنگھ کے بارے میں معلوم کرتاہے۔سہدیو کچھ نہیں بتاتاہے۔
ایک دن میلے یا بازار میں دولوگ ایک لڑکی کوچھیڑتے ہیں،وہ ان کو منع کرتی ہے اور یہ دوپہلوان اس کے کپڑے پھاڑدیتے ہیں،لڑکی گرجاتی ہے۔ یہ لوگ اس کے اردگرد جمع ہوجاتے ہیں اورایک تواس لڑکی کے اوپر لیٹ جاتاہے۔ لڑکی چیختی چلاتی ہے۔ اسی بازارمیں بھرت سنگھ بھی ہوتاہے وہ دیکھ لیتاہے۔اور پھربھرت سنگھ پستول نکالتاہے اورچھ کی چھ گولیاں نیچے لیٹے ہوئے آدمی کے اوپر چلاتاہے اور ساری پستول خالی کردیتاہے۔ ساری بھیڑبھاگ جاتی ہے۔ پھر بھرت سنگھ کی پستول خالی ہوجاتی ہے تو باقی تین آدمی اس پر گولی چلاتے ہیں اور تین گولیاں اس کے جسم میں اترجاتی ہیں۔ وہ جب تک دوسری پستول نکالتا ہے تب تک تین گولیاں اور اس کو لگتی ہیں۔ اوربھرت سنگھ وہیں پرڈھیرہوجاتاہے۔ سب جگہ یہ خبرپہنچ جاتی ہے کہ بھرت سنگھ ماراگیا۔ سب سے زیادہ پریشان بھاردواج ہوتاہے کیوں کہ وہ بھاردواج کا داہنا ہاتھ تھا۔بھاردواج کوصرف اسی پربھروسہ تھا۔ پتہ چلتا ہے کہ جنھوں نے ماراوہ چوہان کے آدمی تھے۔ بھاردواج کہتاہے کہ سب کوختم کردو۔ پولس پانچ آدمیوں کو گرفتار کرتی ہے ان میں زیادہ تربے قصورہوتے ہیں۔ انھیں میں ایک مجمدار کاآدمی ہوتا ہے شیخ شہادت میاں۔ان سب کو 47دن بعد ضمانت ملی۔ یہ لوگ جس دن جیل سے چھوٹنے والے تھے اس دن بھاردواج ان کو گولی سے اڑانے کا پلان بناتاہے۔ اوراپنے آدمی لگادیتاہے۔مجمدار کوجب یہ بات پتہ چلتی ہے تووہ رہائی ایک دن کے لیے رکوادیتاہے۔ بھاردواج کوجب پتہ چلتا ہے تووہ بہت غصہ ہوجاتاہے۔
اسی دن شام کو جیسے ہی مجمدار سہدیو سے ملنے اس کے گھر آتاہے تواس پرحملہ ہوتاہے اورتباڑتوڑگولیاں برسائی جاتی ہیں۔ عرفان کے ہاتھ میں گولی لگتی ہے اوروہ پاس ہی خراب پڑی گاڑی کے نیچے گھس جاتاہے۔ مجمدار کوپھراسپتال لے جایا جاتا ہے۔ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اگر72گھنٹے ٹھہرگیا تومجمداربچ جائے گا۔مجمدارکاکوئی رشتہ دار نہیں تھا لیکن اسپتال کے باہر ہزاروں کی تعداد میں بھیڑ جمع ہوجاتی ہے۔ لوگ فون پراس کا حال چال معلوم کرتے ہیں پرتی بالا اس کو دیکھنے کے لیے جانے کی ضدکرتی ہے جسے سہدیو منع کردیتا ہے کیوں یہ بھاردواج کی یونین میں کام کرتاہے اورکسی نے دیکھ لیا تو جان سے مارسکتاہے کیوں کہ اس وقت ماحول بہت گرم تھا، مجمدارمرجاتاہے۔پھرلوگوں کا جلوس نکلتا ہے بہت بڑاجہاں تک نظراٹھاؤآدمی ہی آدمی ہوتے ہیں۔ نعروں کا شورسنائی دیتاہے کہ خون کا بدلہ خون۔ ہتھیاروں کوپھانسی دو۔ سہدیواس جلوس کو دیکھتا ہے جب وہ قریب آتاہے تواس کو بھیڑمیں ایک بلندہاتھ دکھائی دیتاہے وہ ہاتھ عرفان کاہے۔
لوگوں کا جلوس اس کے سامنے سے گزرتا چلاجاتاہے۔ اس جلوس کے سب سے آگے دھوتی پہنے گھوش بابو چل رہے ہیں اور ان کے دونوں طرف عرفان،واسدیو، وزیرانصاری۔قریب ایک گھنٹہ گزرجانے کے بعد بھی وہ جلوس ختم نہیں ہوتاہے اوروہ بھیڑایک لامتناہی سلسلہ ہے جوختم ہی نہیں ہورہی۔ پھرجلوس کے آخری سرے پر عورتیں چل رہی ہیں۔ سہدیو ان عورتوں کودیکھ کر چونک جاتاہے۔ سب سے پیچھے خاتون جسے لوگ ختونیا کہتے ہیں وہ اپنا ہاتھ اٹھاکر نعرہ لگاتی جاتی ہے۔ سہدیو اس کی آنکھوں میں ایک آگ دیکھتا ہے۔ اور پھرسب سے آخرمیں سہدیو بھی جلوس سے پیچھے پیچھے چلنے لگتا ہے۔ بس یہیں پر اس ناول کا اختتام ہوتا ہے۔ 
Download Pdf File فائر ایریا کے کردار

 

error: Content is protected !!