چینی شاعری

چینی شاعری (کنہیالال کپور)

چینی شاعری
(یہ مضمون سنگ و خشت سے ماخوذ ہے)
*مضمون”چینی شاعری“میں آخری شعر علامہ اقبال کا ہے۔

*چینی شاعری میں ہندوستانی شاعروں میں اقبال کے علاوہ مرزا غالب کا بھی شعر موجود ہے۔

چینی شاعری پر قلم اٹھانے سے پہلے میں آپ پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں چینی نہیں جانتا۔ مگر اس بات کا مجھے چنداں افسوس نہیں، کیوں کہ اگر میں چینی نہیں جانتا، تو آپ کب جانتے ہیں؟ چینی تمدن، چینی لٹریچر، چینی تہذیب سے میری واقفیت صرف دو چیزوں کی وساطت سے ہوئی ہے۔ ان میں سے ایک تو ہے چینی کا پیالہ جو کہ میں نے پچھلے سال آل انڈیا نمائش سے خریدا تھا۔ اور دوسری ہے ایک چینی تصویر جس میں کہ ایک چینی شہزادی (میں اسے شہزادی ہی کہوں گا) ایک کتے کی طرف آنکھ پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہی تھی بہر حال آپ کو ان چیزوں سے کیا مطلب؟ آپ تو یہ جاننا چاہتے ہیں کہ چین کا سب سے بڑا شاعر کون ہے، اور چین میں اس وقت کتنے شاعر ہیں۔ تو لیجئے چین کا سب سے بڑا شاعر شین شے شک ہے اور چین میں اس وقت ہزاروں شاعر ہیں۔ بلا مبالغہ چین کا بچہ بچہ شعر کہتا اور سمجھتا ہے۔ اگر میں ان تمام شاعروں کے نام لکھ دوں، تو آپ یقینا حیران ہو جائیں اور اگر میں ان کی مطبوعات کی فہرست بھی شامل کر دوں توآپ کی حیرانی پریشانی میں تبدیل ہو جائے۔ مگر میرا مقصد آپ کو حیران یا پریشان کرنا نہیں۔ میرا مطلب تو آپ کا چینی شاعروں سے تعارف کرانا ہے۔ چینی شاعروں کے نام یاد کرنے کا ایک نہایت سہل طریقہ مجھے یاد ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ آپ ان چھ سات لفظوں کو یاد کر لیں۔۔ پانگ شانگ، ٹانگ۔ شک۔ بک۔ٹین۔ شین۔ اب انہی لفظوں کے ہیر پھیر اور امتزاج سے چین کے ہر ایک چھوٹے اور بڑے شاعر کا نام بن سکتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی آپ سے پوچے کہ چین کا سب سے بڑا رومانی شاعر کون ہے؟ تو آپ فوراً کہہ دیجئے ٹین بک بک۔ چین کا سب سے بڑا انقلابی شاعر کون ہے؟ مشین ٹانگ ٹانگ۔ اقتصادی شاعر؟ شک ٹین ٹانگ۔ اچھا آپ کی ایک مشکل تو حل ہو گئی۔ اب آگے چلئے۔
یقینا آپ اس بات کے جاننے کے خواہش مند ہیں کہ چینی شاعر، کن چیزوں کو شاعری کا موضوع بناتے ہیں اور ان کے کلام کی کیا خصوصیات ہیں۔ تو سب سے پہلی بات جو کہ آپ کو سمجھنی چاہئے وہ یہ ہے کہ چینی شاعر عموماً پھولوں، جھیلوں، سمندروں اور سانپوں کے متعلق لکھتے ہیں۔ مثلاً شین ٹین مانگ کو ہی لیجئے۔ اپنے تازہ مجموعہ کلام میں اس نے سوائے سانپوں کے کسی اور چیز کا ذکر تک نہیں کیا، مثال کے طور پر اس نظم کو لیجئے:
”آہا جھیل کے سنہری پانی پر سانب ناچ رہا ہے۔
کیا دلکش نظارہ ہے۔
کاش کہ ہم سب سانپ ہوتے“
مگر آپ یہ نہ سمجھئے۔ کہ شین ٹین ٹانگ سوائے سانپوں کے کسی اور چیز پر لکھ ہی نہیں سکتا۔ اس نے مینڈکوں، چوہوں اور مچھروں پر بھی لاتعداد نظمیں لکھیں ہیں۔ خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔ دوسری بات چینی شاعری کے متعلق یہ ہے کہ چینی شاعر عجیب و غریب استعارے، نادر الوجود ترکیبیں اور نہایت دلکش تشبیہیں استعمال کرتے ہیں مثلاً شین شانگ ایک جگہ لکھتا ہے:
میری محبوبہ کی آنکھیں
سبز ہیں
شفتا لو کے پتوں کی طرح
اس کے دانت
تیز ہیں
تلوار کی طرح
اور آندھی کی طرح
اس کے بال سیاہ ہیں
اور قد دیوار چین سے اونچا ہے
آپ نے کالی، نیلی اور پیلی آنکھیں تو دیکھی اور سنی ہوں گی۔ مگر سبز آنکھیں صرف شین شانگ کے کلام ہی میں پائی جاتی ہیں اور محبوبہ کے دانتوں کو کس چیز سے تشبیہ دی ہے؟ جزاک اللہ صاحب! یہ چین ہے چین اور سنئے۔ پانگ پان ٹین لکھتی ہیں:
سورج کی ٹھندی ٹھنڈی کرنیں مجھے بے چین کر رہی ہیں۔
خزاں آ گئی
طرح طرح کے پھول کھلے
بلبل گا رہی ہے!
مجھے کس قدر بھوک لگ رہی ہے
حیران ہونے کی کوئی بات نہیں۔ چین میں یا یوں کہیے۔ چینی شاعری میں ہر ایک چیز ممکن ہے اور یہی تو چینی شاعری کی خوبی ہے۔ ہمارے ہاں بہار میں پھول کھلتے ہیں مگر چینی شاعروں کا تخیل دیکھئے کہ خزاں میں پھول کھلوا دیئے اور پھر سورج کی ٹھنڈی کرنیں! قلم توڑ کے رکھ دیا ہے۔
چینی شاعر پھولوں کے بہت دلدادہ ہوتے ہیں۔ ایک شاعر لکھتا ہے:
مجھے نیلوفر کے پھول لا دو
اور ہاں، نرگس، چنبیلی اور گلا ب بھی
کیا تم نے نہیں سنا
مجھے نیلوفر کے پھول درکار ہیں
کہیں سوسن نہ لے آنا، بے وقوف!
مجھے چاہئیں صرف نرگس، چنبیلی اور گلاب
اچھا ٹھہرو آج مت لانا
مجھے آج زکام ہے
آخری مصرعے میں شاعر نے حقیقت نگاری کو جس معراج پر پہنچایا ہے، وہ اس کا ہی حصہ ہے کاش ہمارے نوجوان ہندوستانی شاعر کچھ چینی شاعروں سے سیکھتے۔ ذرا غور کیجئے شاعر پھول منگوانا چاہتا ہے۔ مگر یک لخت اس کو خیال آتا ہے کہ اسے زکام ہے۔ پھر پھول منگوانے کا فائدہ ہی کیا یہ پھر کبھی سہی شاعر کہتا ہے۔اور نظم کواس نگین مصرع پر کہ ”مجھے آج زکام ہے“ ختم کر دیتا ہے۔
اظہار عشق میں چینی شاعروں کا کوئی ہم پلہ نہیں۔ وہ دقیق سے دقیق نفسیاتی مسائل کو نہایت خوش اسلوبی سے ادا کرجا تے ہیں۔ اس طرح کہ بے چارے ہندوستانی شاعر منہ تکتے رہ جاتے ہیں َ مثلاً شین ٹانگ شک کو لیجئے لکھتا ہے:
کل میں نے خود کشی کرنے کی ٹھانی
میں نے زہر خریدا
میں سمندر کے کنارے پر گیا
میں نے اپنے کپڑوں پر پیٹرول ڈالا
میں زہر کی گولی کھا کر
اپنے کپڑوں کو آگ لگاکر
سمندر میں کود جانا چاہتا تھا
کہ معا مجھے خیال آیا
کہ وہ مٹھائی جو کہ تمہاری بہن نے تم کو بھیجی تھی
میرے مرنے کے بعد
تم اکیلی ہی کھا جاؤ گی
میں نے خود کشی کا خیال ترک کر دیا
اورسیدھ گھر چلا آیا
کیوں صاحب دیکھا آپ نے چینی شاعر کا کمال! خود کشی پر آمادہ تھا۔ اس نے بیک وقت تین مختلف طریقوں سے اپنے آپ کو ہلاک کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا تھامگر اچانک جب کہ وہ دنیا کی ہر ایک چیز سے کنارہ کشی کرکے زہر کھاکر کپڑوں کو آگ لگاکر سمندر میں کودنا چاہتا تھا۔ اسے ایک ایسی چیز یاد آئی، جس نے اس کے دماغ میں عجیب ہیجان پیدا کر دیا۔
مٹھائی! اور پھر اس پر یہ پریشان کن خیال کہ اس کی بیوی اسے اکیلی کھا جائے گی! یہ ہے نفسیاتی شاعری۔
چینی شاعر انسانی دماغ کی عمیق گہرائیوں میں جس خوبی سے اتر سکتا ہے، وہ صرف نفسیات کے ماہر ہی جان سکتے ہیں۔ اب صرف ایک اور بات آپ کو سمجھ لینی چاہئے۔ اور پھر آپ چینی شاعری کو مکمل طور پر سمجھ جائیں گے۔ وہ بات یہ ہے کہ چینی شاعر بعض دفعہ اپنے شعروں میں اور کئی دفعہ
پریشان ہو جاتی ہیں“

اب یہ شعر آپ کو غالب کے مشہور شعر ؎
نیند اس کی ہے دماغ اس کا ہے راتیں اس کی ہیں
جس کے بازوپر تری زلفیں پریشاں ہو گئیں
کی یاد دلاتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ پوہانگ لی غالب کی شاعری سے نہایت متاثر ہوا ہے۔ کم بخت ٹانگ ٹانگ نے علامہ اقبالؔ کی مشہور نظم ”اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو۔ کا پورا ترجمہ کر ڈالا ہے، لکھتا ہے:
”کہ جس کھیت سے کاشتکار کو روٹی نہیں ملتی۔ اس کے ہر ایک خوشہئ گندم کو جلا دو۔“
چین کا مشہور شاعر بھک بھک جو کہ شاعر ہونے کے علاوہ ظریف بھی ہے۔ اپنے ملک کے نوجوانوں کی مغرب پرستی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتا ہے:
”یہ افسوس کہ چین کے نوجوان مغرب کے دلدادہ ہو گئے ہیں۔ انہیں یہ معلوم نہیں کہ مغرب میں تمام برتن بلور کے ہوتے ہیں اور ہمارے ہاں سب چینی کے۔“
غور کیجئے۔ بھک بھک کا تخیل علامہ اقبالؔ کے تخیل کے کس قدر نزدیک پرواز کر رہا ہے جو بات بھک بھک نے آج کہی۔ وہ ہندوستان کے شاعر نے بیس برس پہلے ہمارے ذہن نشین کرا دی۔
ہم مشرق کے مسکینوں کا دل مغرب میں جا اٹکا ہے
وہاں۔۔۔کنٹر سب بلوری ہیں یاں ایک پرانان مٹکا ہے
مگر اب زیادہ وہ مثالیں دینے کا کیا فائدہ۔ آپ میرا مطلب تو سمجھ گئے ہیں۔ اور اگر آپ نہیں سمجھے توآپ میری کتاب ”چینی شاعری“ ّ(جس کے ساتھ علامہ بھک بھک)اور ان کے بڑے بھائی علامہ بک بک کا بصیرت افروز دیباچہ شامل ہے) خرید کر پڑھیں۔ آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی۔ آپ کادماغ چکرا جائے گا۔ اور آپ محسوس کریں گے کہ ہندوستانی شاعری چینی شاعری کے سامنے اس طرح معلوم ہوتی ہے جس طرح ہندوستانی مٹی کا پیالہ چینی پیالے کے سامنے (وہ چینی کا پیالہ جو میں نے آل انڈیا نمائش سے خریدا تھا!)

error: Content is protected !!