٭تاریخ زبان اُردو٭
نام سنہ پیدائش سنہ وفات
محمد حسین آزاد: 1830/ دہلی 1910/ لاہور
محمود شیرانی: 1880 ٹونک راجستھان 1947 ٹونک راجستھان
سید سلیمان ندوی: 1884 بہار 1953کراچی
نصیرالدین ہاشمی: 1895 حیدرآباد 1964 حیدرآباد
شوکت سبزواری: 1908 میرٹھ 1973کراچی
مسعود حسین خاں: 1919قائم گنج،فرخ آباد 2010
٭پیدائش کے اعتبار سے….
محمد حسین آزاد، محمود شیرانی، سید سلیمان ندوی، نصیرالدین ہاشمی، شوکت سبزواری، مسعود حسین خاں
٭وفات کے اعتبار سے…..
محمد حسین آزاد، محمود شیرانی، سید سلیمان ندوی، نصیرالدین ہاشمی، شوکت سبزواری، مسعود حسین خاں
پیدائش اور وفات جگہ کے اعتبار سے درست زمرہ کچھ یوں بنے گا…..
محمد حسین آزاد دہلی……………………… لاہور
محمود شیرانی ٹونک راجستھان…………ٹونک راجستھان
سید سلیمان ندوی بہار………………………. کراچی
نصیرالدین ہاشمی حیدرآباد…………………. حیدرآباد
شوکت سبزواری میرٹھ…………………….. کراچی
مسعود حسین خاں قائم گنج…………………..
ہند آریائی کی مختصر تاریخ
¦ زبان ” آواز اور الفاظ کا مجموعہ ہے۔ زبان ہمارے احساسات، جذبات و خیالات کو ادا کرنے کا ذریعہ ہے۔
¦ قدیم ہند آریائی دور 1500 قبل مسیح سے 500 قبل مسیح تک شمار کیا جاتا ہے۔
¦ زبانیں زمان و مکان کے اعتبار سے ایک دوسرے سے الگ الگ ہوتی ہیں۔ ان کی صوتی، صرفی اور نحوی خصوصیات کی بنا پر انہیں ماہرلسانیات نے الگ الگ آٹھ خاندانوں میں بانٹا ہے:-
1۔ سامی 2۔ ہند چینی 3۔ منڈ ا 4۔ امریکی
5۔ دراوڑی 6۔ ملایائی 7۔ افریقہ کی بانتو 8۔ ہند یوروپی
¦ سامی خاندان میں بہت سی اہم زبانیں آتی ہیں، عربی اور عبرانی اسی سے نکلی ہیں۔
¦ اُردو اور ہندی کا جس خاندان سے تعلق ہے وہ ہند یوروپی ہے۔
¦ہندوستان میں آکر یہ خاندان یعنی ہند یوروپی اپنے ارتقائی دور میں ‘ ہند ایرانی’ سے گزر کر ‘ ہند آریائی ‘ شکل اختیار کر لیتا ہے۔
¦آریا ہندو یوروپی زبان بولتے تھے جو مشرقی اور مغربی دو حصوںمیں تقسیم ہو گئی۔
¦دراوڑی سے ہندوستان کی بہت سی اہم زبانوں کا سلسلہ ملتا ہے۔ یہ زبانیں جنوبی ہندوستان میں رائج ہیں۔ تامل، تلگو، کنڑ اور ملیالم اسی کی مشہور شاخیں ہیں۔
¦ ماہرین لسانیات نے ہندوستان میں ہند آریائی زبانوں کے ارتقا کو تین ادوار میں تقسیم کیا ہے:-
1۔ قدیم ہند آریائی 2۔ وسطی ہند آریائی 3۔ جدید ہند آریائی
سوال:- قدیم ہند آریائی کیا ہے؟
جواب:- ہند آریائی کا عہد قدیم 1500 ق م تا 500 ق م شمار کیاجاتاہے۔اس وقت ہند یورپی زبان ہند ایرانی منزل سے گزر کر خالص ہند آریائی شکل اختیار کرچکی تھی۔ یہ عہد ’ویدک عہد‘ بھی کہلاتا ہے۔
¦اسی عہد میں رگ وید، یجروید، اتھر وید اور سام وید (ہندؤں کی مشہور مذہبی کتابیں) لکھی گئیں ہیں۔ اس عہد میں سنسکرت زبان خوب ترقی کرتی ہے۔اور یہ زبان سنسکرت عالموں کی زبان بن جاتی ہے۔ اسی عہد میں’مہا بھارت‘ لکھی جاتی ہے۔
¦قدیم ہند آریائی کو ڈاکٹر سدیشور ورما نے پانچ منزلوں میں تقسیم کیا ہے۔
1۔ ویدک منزل 2۔ عہد پاننی کی منزل 3۔ رزمیہ منزل 4 ۔ دینوی منزل 5۔ ٹکسالی منزل۔
¦وسطی ہند آریائی:- یہ 500 قبل مسیح سے 1000 تک کا زمانہ ہے جسے ماہرین نے اس کے ارتقائی خصوصیت کے لحاظ سے تین ادوار میں تقسیم کیا ہے۔
¦ پہلا دور 500 قبل مسیح سے مسیحی سن شروع ہونے سے پہلے تک کا زمانہ ہے۔ اس دور میں ‘ پالی’ عوام کی مقبول زبان رہی ہے جس میں جین مت اور بدھ مت کی تعلیمات ملتی ہیں۔
¦ دوسرا دور مسیحی سن کے ابتداء سے 500 تک شمار کیا جاتا ہے۔ یہ عہد پراکرتوں کے آغاز اور ارتقاء کا عہد ہے۔ پراکرت کے معنی فطری زبان کے ہیں۔مسعود حسین خاں کے مطابق پہلی پراکرت صرف اس زبان کو کہیں گے جس کا ادبی روپ پالی ہے۔ پالی کو قدیم ماگدھی بھی کہا گیا ہے۔پالی بدھ مذہب کی زبان ہے۔ ہند آریائی لسانیات کے ماہرین نے ادبی پراکرتوں یعنی دوسری پراکرت کی حسب ذیل پانچ قسمیں بیان کی ہیں:-
¦ مہاراشٹری:- یہ جنوب کی پراکرت ہے۔ مراٹھی اسی سے نکلی ہے۔
¦ شورسینی:- اس کا مرکز شورسین یعنی متھرا کا علاقہ تھا۔
¦مگدھی:- یہ پورے مشرقی ہندوستانیوں کی بولی تھی۔ اس کا مرکز مگدھ یعنی جنوبی بہار تھا۔
¦ اردھ مگدھی:- اس کے لفظی معنی آدھی مگدھی کے ہیں۔ اس کا مقام اودھ اور مشرقی اُتر پردیش تھا۔ یہ تمام پراکرتوں میں سب سے پرانی ہے۔
¦پشاچی:- یہ کشمیر اور پنجاب کے علاقے کی پراکرت تھی۔
¦ تیسرا دور 500 ع سے 1000 ع پر محیط ہے۔ یہ دور اپ بھرنش کا دور کہلاتا ہے۔اپ بھرنش کے معنی بگڑی زبان کے ہیں۔
¦جدید ہند آریائی:- اس کا زمانہ 1000ع سے تا حال مقرر ہے۔
مغربی ہندی اور اس کی اہم بولیاں
¦مغربی ہندی:- مدھیہ دیش کی زبان کو ہی مغربی ہندی کہتے ہیں۔ جو مغرب میں سر ہند سے لے کر مشرق میں الہٰ آباد تک اور شمال میں ہمالیہ کے دامن سے لیکر جنوب میں وندھیا چل اور بندیل کھنڈ تک بولی جاتی ہے۔
¦ لسانی نقطہ نظر سے مغربی ہندی کا براہ راست تعلق شورسینی اپ بھرنش سے ہے۔
¦ گریسن کے مطابق مغربی ہندی کی پانچ بولیاں ہیں۔
¦ کھڑی بولی • ہریانوی • برج بھاشا • قنوجی • بندیلی
¦مغربی ہندی کی پانچ بولیوں کو دو گرہوں میں بانٹا جا سکتا ہے:-
¦ الف:- (اُو) کو ترجیح دینے والی بولیاں:- (۱) برج بھاشا (۲) بندیلی (۳) قنوجی
¦ب:- (ا) کی شکل رکھنے والی بولیاں:- (۱) ہریانی (۲) کھڑی بولی
¦ برج بھاشا:- برج بھاشا کو مغربی ہندی کی نمائندہ بولی کہا جاتا ہے۔
¦ برج بھاشا کو شورسینی اپ بھرنش کی سچی جانشین کہا جاتا ہے۔
¦برج بھاشا کا مرکز (متھرا) کا علاقہ ہے لیکن یہ آگرہ، بھرت پور، دھول پور، کرولی، ریاست گوالیر اور جے پور کے مشرقی اضلاع تک پھیلی ہوئی ہے۔ شمال میں گڑ گاؤں ضلع کے مشرقی حصوں میں بھی رائج ہے۔
¦بندیلی:- یہ بولی بندیل کھنڈ میں بولی جاتی ہے اور اس کے بولنے والے بندیلے کہلاتے ہیں۔
¦ قنوجی:- مغربی ہندی کی اس بولی کا نام شہر قنوج کے نام پر ہے جو ضلع فرخ آباد میں ہے۔
¦ ہریانوی:- اس بولی کو بانگڑو اور جاٹو بھی کہا گیا ہے۔ دہلی کے شمال مغربی اضلاع کرنال، روہتک، حصار وغیرہ کی بولی ان تینوں ناموں سے پکاری جاتی ہے۔
¦ گریسن موجودہ ہریانوی کو کھڑی بولی کی ہی شکل مانتا ہے جس میں راجستھانی اور پنجابی بولیوں کی آمیزش پائی جاتی ہے۔
¦ کھڑی بولی:- گریسن نے اس بولی کو ہندوستانی کا نام دیا ہے۔ یہ مغربی روہیل کھنڈ، دو آبہ کے شمالی حصہ اور پنجاب کے ضلع انبالہ میں بولی جاتی ہے۔
اردو لسانیات: ایک تعارف
زبان سے متعلق سنجیدگی سے غور کرنے کا سلسلہ ابتدائی زمانے سے چلا آرہا ہے۔مذہبی مفکروں کے شانہ بہ شانہ اہل علم حضرات جیسے افلاطون اور ارسطو نے بھی زبان کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔افلاطون کی کتاب(Cratylus) علمِ زبان کے تعلق سے پہلی کتاب تصور کی جاتی ہے۔واحد جمع‘تذکیروتانیث اور اجزائے کلام کی ابتدائی تعریفیں یونانی دانشور ارسطو سے منسوب ہیں۔ ابجدی تحریر کاآغاز بھی یونان سے ہی ہوا۔قدیم ہندوستانیوں اور عربوں نے زبان کے بارے میں کافی غوروخوض کیا۔اس سلسلے میں پاننی کی (اشٹا دھیائی) خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔
انیسویں صدی میں جرمنی میں زبانوں کے مطالعے کے سلسلے میں اہم شعبہ (Comparative Philology) سامنے آیا۔سر ولیم جونز سے اشارہ پاکر یہ شعبہ، زبانوں کے خاندانی رشتوں کی کھوج میں لگ گیالیکن ان ماہرین زبان کا طریقہ کار محض تاریخی اورکلاسیکی زبانوں تک محدود رہا۔زندہ زبانیں ان کے مطالعے کی توجہ کا مرکز نہ بن سکیں۔
زبان کے مطالعے کی سائنسی بنیادیں بیسویں صدی کے آغاز میں اس وقت شروع ہوئیں جب سویئزرلینڈ کےFeridanand de sasure) (کی کتاب منظرِ عام پر آئی۔ساسور نے پہلی بار زبان کے تقریری روپ کی جانب اہلِ علم کی توجہ مبذول کی۔دیکھتے ہی دیکھتے ماہرین لسانیات کی ایک صحت مند تحریک نے جنم لیا اور اس طرح سے جدید لسانیات کے شعبے کا قیام عمل میں آیا۔
لسانیات، زبان کے سائینسی مطالعے کا نام ہے۔ تعلیمی نظام میں لسانیات کی سب سے بڑی دین یہ ہے کہ ا س نے زبان کی ماہیئت کے شعور کو عام کیاہے یعنی یہ بتانے کی کوشش کی ہے کی زبان کیا ہے۔زبان کواسطور کی دنیا سے نکال کر معروضیت کی روشنی میں پیش کیا۔لسانیات میں زبان کے مطالعے کے دو طریقہ کار وضع ہیں۔ ۱۔تاریخی لسانیات ۲۔توضیحی لسانیات
تاریخی لسانیات:(Historical Linguistics): تاریخی لسانیات میں زبانوں کی تاریخ کا تفصیلی مطالعہ پیش کیا جاتا ہے ان کی عہد بہ عہد تبدیلیوں کا کھوج لگایاجاتا ہے۔یہاں ان اصولوں اور قواعد کا مطالعہ کیا جاتا ہے جن کے سبب زبانوں میں مختلف قسم کی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں یہ تبدیلیاں تلفظ کے اعتبار سے بھی ہوسکتی ہے معنی کے اعتبار سے بھی ہوسکتی ہیں۔
توضیحی لسانیات: ((Discreptive Linguistics: توضیحی لسانیات میں زبان کی توضیح اس کی درج ذیل سطحوں پر کی جاتی ہے۔
۱۔ صوتیات ۲۔فونیمات یا تجزصوتیات ۳۔صرفیا ت یا مارفیمیات ۴۔ نحویات ۵۔معنیات
٭ صوتیات:(Phonetics): اسے لسانیات کی کلید بھی کہا جاتا ہے۔زبان آوازوں کے علامتی اور تصوراتی نظام کا نام ہے۔ انسانی دہن مختلف قسم کی آوازوں کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتا ہے۔ایک آواز دوسری آوازوں سے مل کر زبانوں کو جنم دیتی ہیں۔صوتیات لسانیات کا وہ علمی شعبہء ہے جس میں انسانی اعضائے تکلم سے پیدا ہونے والی ان آوزوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے جو مختلف زبانوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ اس مطالعے میں آوازوں کی تشکیل، ادائیگی، ترسیل، نیز آوازوں کی ان کے مخارج اور دیگر اعتبار سے درجہ بندی کی جاتی ہے۔
٭۔فونیمات یا تجز صوتیات:((Phonemes: لسانیات کی یہ شاخ، کسی زبان میں کام آنے والی اہم اور تفاعلی آواز کا مطالعہ کرتی ہے۔ایک زبان میں استعمال ہونے والی آوازوں کی تعداد زیادہ بھی ہوسکتی ہے لیکن فونیمات کی تعداد محدود اور مقرر ہوتی ہیں۔ اردو میں فونیمات کی صحیح تعداد کے بارے میں بھی علمائے لسانیات کے مابین ذرا سا اختلاف رائے پا یا جاتا ہے۔کوئی ان کی تعداد (۵۸) کوئی(۴۸) اور کوئی(۴۴) قرار دیتا ہے۔ملاحظہ کیجئے: ۱۔اردو کی تعلیم کے لسانیاتی پہلو از: گوپی چند نارنگ ۲۔ خلیل احمد بیگ از: اردو زبان کی تاریخ ۳۔اردو لسانیات کی تاریخ از: درخشاں زریں
٭۔صرفیات (Morphology): صرفیات کو اردو میں مارفیمیات بھی کہتے ہیں۔ یہاں الفاظ کی ساخت، اس کے اصول و قواعد اور اس کے استعمال سے بحث ہوتی ہے۔زبان کی چھوٹی سے چھوٹی بامعنی اکائیوں جیسے الفاظ کی تذکیرو تانیث، ان کی تعداد، حالات و کیفیات، زمانہ اور اضداد وغیرہ کا مطالعہ بھی کیا جاتا ہے۔
٭۔نحویات(:(Syntaxنحویات، کسی زبان میں الفاظ کی مخصوص اور با معنی ترتیب کو کہتے ہیں۔ زبان میں جملوں کی ساخت اور جملوں میں لفظوں کی ترتیب کے قاعدوں کا مطالعہ نحویات کے ذیل میں آتا ہے۔مثلاً(احمد نے کھانا کھایا)۔ یہ اردو نحو کے اعتبار سے الفاظ کی صحیح ترتیب ہے۔اگر اس کے بدلے یوں کہا جائے کہ(کھانا کھایا احمد نے)تو اس کے معنی کی ترسیل پیچیدگی کا باعث بنے گی۔صرف و نحو کو ملاکر زبان کی قواعد کہا جاتا ہے۔
٭۔معنیات(:(Semenaticsلفظوں اور جملوں کے مطالب اور معانی کا مطالعہ معنیات کہلاتا ہے۔ان مطالب کا زبانوں پر کیا اثر پڑتا ہے۔لفظ اور معنی کے درمیان کیا رشتہ ہے۔یہ رشتہ منطقی ہے یا علامتی۔ان سب حقائق کا کھوج علم ِ معنیات سے لگایا جاتا ہے۔
لسانیات اگرچہ اردو میں ابھی کم سن علمی شعبہ ہے لیکن اس کے ظہور نے مختصر وقت میں اردو زبان کے حق میں وہ کر دکھایا جو روایتی علم زبان سالہاسال نہ کرسکا۔اردو کی بنیاد، اس کی اصل، اس کی جائے وقوع، ہم سایہ زبانوں کے ساتھ اس کا رشتہ بالخصوص ہندی کے ساتھ اس کا بہناپا وغیرہ وغیرہ یہ اور زبان سے جڑی اہم بنیادی باتیں جو ابھی تک دھندلکے میں تھیں روشن ہوئیں۔
زبان سیکھنے کی ترتیب
۱۔سننا ۲۔بولنا ۳۔پڑھنا ۴۔لکھنا
Short Trick (S.B.P.L)
لسانیات سے متعلق اہم اقوال
”لسانیات اس علم کو کہتے ہیں جس کے ذریعے سے زبان کی ماہیت‘ تشکیل‘ ارتقا‘ زندگی اور موت کے متعلق آگاہی ہوتی ہے۔“ (محی الدین قادری زور)
”لسانیات روایتی قواعدکی اصطلاحوں کونہیں اپناسکتی کیونکہ لسانیات کی اصطلاحیں بالکل وہی مفہوم پیش نہیں کرتیں۔ تکنیکی مطالعے میں اصطلاحیں ناگزیرہیں۔“ (پروفیسرگیان چندجین)
”لسانیات(Linguistics)کااردوترجمہ ہے۔ فلالوجی (Philology)کی اصطلاح بھی لسانیات کے مترادف کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔ لیکن فلالوجی نسبتاً ایک وسیع تر اصطلاح ہے جس کے مفہوم میں زبان کے سائنسی مطالعہ کے علاوہ ادبیات کا سائنسی مطالعہ بھی شامل ہے۔“
(ابوالاعجاز حفیظ صدیقی)
”تاریخی لسانیات کے تحت ہم کسی زبان کاارتقا بیان کرنے کے لیے اس کی قدیم تر منزل کا تجزیاتی بیان پیش کرنے کے لیے مجبورہیں یعنی یہ کہ ماضی میں اس کی اصوات‘اس کی قواعد‘اس کے چسپیے (Affixes)وغیرہ کیاتھے۔اس طرح تاریخی لسانیات تجزیاتی لسانیات سے استفادہ کرتی ہے اور جہاں تک تقابلی لسانیات کاسوال ہے وہاں بھی تجزیاتی لسانیات سے کنارہ کشی ممکن نہیں۔ دومختلف زبانوں کی اصوات یاان کی تعریف کے قواعد کامطالعہ تبھی تو کیاجاسکتاہے جب ہم ان میں سے ہرایک کی بناوٹ سے واقف ہوں۔ اس طرح تقابلی لسانیات بھی تجزیاتی لسانیات کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتی ہے۔“ (پروفیسر گیان چندجین)
لسانیات سے متعلق اہم تصانیف
1۔ہند آریائی اور ہندی = سنیتی کمار چٹرجی
2۔ہندوستانی لسانیات = محی الدین قادری زور
3۔اردو شہ پارے = محی الدین قادری زور
4۔پنجاب میں اردو = حافظ محمود شیرانی
5۔مقدمہ تاریخ زبان اردو = مسعود حسین خاں
6۔اردو لسانیات = شوکت سبز واری
7۔دکن میں اردو = نصیر الدین ہاشمی
8۔اردو کی کہانی = سہیل بخاری
9۔اردو کی کہانی = احتشام حسین
10۔ہندوستانی لسانیات کا خاکہ = سید احتشام حسین
11۔اردو کا ابتدائی زمانہ = شمس الرحمن فاروقی
12۔تاریخ ادب اردو = جمیل جالبی
13۔عام لسانیات = گیان چند جین
14۔لسانی مطالعے = گیان چند جین
اردو کی ابتدا کے بارے میں مختلف نظریات
ہند آریائی کے عہد کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے
¦قدیم ہند آریائی 1500 ق م سے 500 ق م تک۔
¦وسطی ہند آریائی500 ق م سے1000 تک۔
¦جدید ہند آریائی 1000سے تا حال۔
¦سامی خاندان سے عربی اور عبرانی زبان نکلتی ہے۔
¦دراوڑی زبان جنوبی ہندوستان (دکن) میں رائج ہے۔ تامل، تیلگو، کنڑ، ملیالم اس کی مشہور شاخیں ہیں۔
¦ہند یوروپی سے ہماری زبان ہندی اور اُردو کا تعلق ہے۔
¦قدیم ہند آریائی عہد میں چار وید ملتے ہیں۔ رگ وید، یجروید، سام وید، اتھر وید
¦قدیم ہند آریائی عہد کو گیان چند جین نے دو ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ (۱) ویدک سنسکرت (۲) کلاسیکل سنسکرت۔
¦ڈاکٹر سدیشور ورما نے قدیم ہند آریائی عہد کو پانچ ادوار میں تقسیم کیا ہے۔
¦آریوں کی آمد کے بعد سب سے پہلے ویدک سنسکرت کے نمونے ملتے ہیں۔
¦وسطی ہند آریائی میں تین دور ہیں۔ پالی، پراکرت، اپ بھرنش
¦پالی بدھ مذہب کی زبان تھی۔
¦گریسن نے ہندوستانی زبانوں کو زبانوں کا ”عجائب گھر“ کہا۔
¦ مغربی ہندی کی پانچ بولیاں ہیں۔ اور مشرقی ہندی کی تین بولیاں۔
¦کس ادیب نے اردو زبان کو زبان ہندوستان کہا ہے؟ ج: ملا وجہی
¦اُردو دراوڑی خاندان کی زبان ہے۔ ج: سہیل بخاری
¦ اگر مسلمان ہندوستان میں نہ آتے تب بھی جدید ہند آریائی زبانوں کی پیدائیش ہو جاتی لیکن ان کے ادبی آغاز و ارتقاء میں تاخیر ضرور ہو جاتی“ ج: سنیتی کمار چٹرجی
¦اردو کوہستان کی سرحد سے پیدا ہوئی“ ج: ڈاکٹر جمیل جالبی
¦اردو مگدھ سے نکلی“ ج: اختر اورینوی
¦اردو کھڑی بولی سے نکلی ہے“ ج:گیان چند جین
¦اردو دہلی کی زبان ہے“ ج: سر سید احمد خاں
اُردو زبان کے بارے میں آزاد کے نظریات
٭ اتنی بات ہر شخص جانتا ہے کہ ہماری زبان اُردو برج بھاشا سے نکلی ہے اور برج بھاشا خاص ہندوستانی زبان ہے۔
٭ اس عہد کی نامی زبانیں وہ ہوں گی جن کی نشانی تامل، اوڑیا اور تلگو وغیرہ اضلاع دکن اور مشرق میں اب تک یادگار موجود ہیں۔
٭ بقول آزاد ”چنانچہ اس کے قواعد اور اصول باندھے اور ایسے جانچ کر باندھے جن میں نقطے کا فرق نہیں آ سکتا“۔
٭ پراکرت صاف سنسکرت کی بیٹی معلوم ہوتی ہے۔
اُردو زبان کے بارے میں محمود شیرانی کے نظریات
٭اُردو کی ابتدا اُس زمانے میں ہوئی جب سلطان محمود غزنوی اور شہاب الدین غوری ہندوستان پر باربار حملہ کر رہے تھے۔
٭ اُردو کی داغ بیل پنجاب کے علاقے میں پڑی۔
٭وہ زبان جسے ہم ’اردو‘ کہتے ہیں، سرزمین پنجاب میں پیدا ہوئی اور وہیں سے ہجرت کر کے دہلی پہنچی۔
اُردو زبان کے بارے میں سید سلیمان ندوی کے نظریات
٭اردوسندھ میں پیدا ہوئی۔
٭مسلمان سب سے پہلے سندھ میں پہنچے ہیں، اس لئے قرین قیاس یہی ہے کہ جس کو ہم آج اردو کہتے ہیں اس کا ہیولیٰ اسی وادی سندھ میں تیار ہوا ہوگا۔
اُردو زبان کے بارے میں نصیر الدین ہاشمی کے نظریات
٭اردو دکن میں پیدا ہوئی۔
اُردو زبان کے بارے میں شوکت سبزواری کے نظریات
٭اُردو مسلمانوں کی اُسی طرح پر داختہ ہے جس طرح فارسی ترکی یا پنجابی اور سندھی وغیرہ زبانیں مسلمانوں کی پر داختہ ہیں۔
٭ اُردو کھڑی بولی سے ترقی پاکر بنی جس کی بابت عرض کیا جا چکا ہے کہ وہ دہلی اور میرٹھ کے نواح میں بولی جاتی تھی۔
٭ اُردو اورپراکرت کی درمیانی کڑی اپ بھرنش ہے۔ اس لئے مغربی ہندی کو درمیان سے نکال کر یہ کہنا کہ اُردو اپ بھرنش سے ارتقاء پاکر وجود میں آئی زیادہ صحیح ہے۔
٭ اُردو نے قدیم مغربی ہندی سے ترقی پاکر موجودہ روپ اختیار کیا۔
٭ شوکت سبزواری کے نزدیک مغربی ہندی ایک طرح کی فرضی اور خیالی زبان ہے۔
٭ مغربی ہندی کی پانچ بولیوں کے وجود کو شوکت سبزواری تسلیم نہیں کرتے۔ اسے ایک طرح کی ذہنی تجرید یا منطق اپج بتاتے ہیں۔
٭ اُردو زبان کا مولد ہریانہ بتایا ہے۔
٭ اُردو کے قواعد کا خاکہ پالی میں ملے گا۔
٭دو آبہئ گنگ و جمن کو اُردو کا مسکن قرار دیا ہے۔
اُردو زبان کے بارے میں مسعود حسین خاں کے نظریات
٭ قدیم اُردو کی تشکیل براہ راست ہریانوی کے زیر اثر ہوئی ہے۔
٭ اُردو کا اصل سر اور حقیقی مولد دہلی ہے۔
٭ لسانیات کا یہ اٹل اصول ہے کہ بول چال کی زبان جتی تیزی سے بدلی ہے ادب کی زبان اس کا ساتھ نہیں دے سکتی۔
٭ جدید اُردو کا معیاری لہجہ برج بھاشا کا تتبع کرتا ہے۔
٭ ہریانوی زبان کی پیدائش اُردو کی پیدائش کے بعد عمل میں آئی۔
٭قدیم اُردو کی اساس دہلی کی ہریانی بولی پر قائم ہے۔
Jamsheeda
January 6, 2022 at 11:58 amBht bht shukriya sir apne Kafi umdah tariqay se aisy notes available rakhy hamay isy kafi istefada hoga
ڈاکٹر شیخ کنیزفاطمہ
July 12, 2022 at 10:43 amجزاک اللہ خیرا کثیر اللہ آپ کو آپ کی ان کاوشوں کا بہترین اجر عطا فرمائے
آپ سے درخواست ہے کہ نیٹ جی آر ایف نوٹس کے کچھ یونٹس اوپن نہیں ہورہے ہیں آف ہے مسئلہ حل ہو جائے تو بہتر ہوگا